3362 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ قَالَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا تھا' فرمایا: ''اگر اس (کی بیوی) نے اپنی لو نڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے لونڈی کو اس کے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے رجم کردوں گا۔''
(۱) نعمان بشیر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا اور مابعد کی دونوں آیات سندًا ضعیف اور مضطرب ہیں۔ محقق کتاب کا ان تینوں اور ان سے مابعد کی سلمہ بن محبق کی دورایات کو حسن قراردینا محل نظر ہے۔ شیخ البامی رحمہ اللہ وغیرہ نے انہیں ضعیف قراردیا ہے۔ اور انہی کی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الدیثیۃ' مسند الامام احمد: ۳۰/۳۴۶۔ ۳۴۸) (۲) تفہم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے کے سے جائز نہیں بن جاتی۔ بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قراردے تووہ لونڈی خاوند کے لیے حلال قراردے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں' بیوی کی لونڈی ہے۔ اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے۔ لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لون ڈی ہے' تو تب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قراردے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو' اس لیے سزا میں کچھ تختیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا' مگر یاد رہے اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو بالکل معاف نہیں کیا جاسکتا' سزا ہلکی ہوسکتی ہے۔ ہاں' اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کردے اور وہ اس کا لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرادے تو جائز ہے۔