889 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعْتُ شِمَالِي عَلَى يَمِينِي فِي الصَّلَاةِ فَأَخَذَ بِيَمِينِي فَوَضَعَهَا عَلَى شِمَالِي
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نماز میں اس حالت میں دیکھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا تو آپ نے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور اسے بائیں پر رکھ دیا۔
(۱) شریعت اسلامیہ میں دائیں ہاتھ کو ترجیح اور فضیلت حاصل ہے۔ جنتیوں کو اہل یمین کہا گیا ہے۔ دایاں ہاتھ اچھے کاموں کے لیے مخصوص ہے۔ اور اسی طرح نماز میں دوران قیام دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنے کا حکم ہے۔ (۲) دوران نماز میں غلطی کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ (۳) اپنی نماز کی اصلاح ہو یا دوسرے کی۔