فهرس الكتاب

الصفحة 4436 من 5761

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

باب: قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے کا بیان

4436 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اعرابیوں کا ایک قافلہ مدینہ منودہ آیا۔ ادھر قربانیوں کا وقت آ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' (قربانیوں کا گوشت) تین دن رکھ کر کھا سکتے ہو (زائد نہیں) ۔ اس کے بعد آئندہ سال) لوگوں کے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔ ان کی چربی پگھلا لیا کرتے تھے اور چمڑوں سے مشکیزے بنا لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ''کیا مطلب؟'' لوگوں نے کہا: آپ نے جو قربانی کا گوشت وغیرہ رکھنے سے روک دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ''میں نے تو اس قافلے کی وجہ سے روکا تھا جو (دیہات سے) آیا تھا۔ اب تم کھائو، جمع بھی رکھو اور صدقہ بھی کرو۔''

گویا پہلے سال آپ کا روکنا مخصوص حالات کی وجہ سے تھا جو اس قافلے کی آمد سے پیدا ہوئے تھے ورنہ اصولی طور پر قربانی کی ہر چیز، مثلًا: گوشت، چربی اور چمڑے وغیرہ سے دیر تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، البتہ فقراء اور سائلین کو دینا بھی ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت