5477 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ
حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے:''اے اللہ!میں قرض اور واجب الادا حق کے غلبے (اور بوجھ) 'دشمن کے غلبے اور دشمنوں کی دل آزار خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔'
1۔غلبے مراد یہ ہے کہ میں اسے ادا کےنے سے عاجز آ جاؤں اور اپنے سر پر لے کر مر جاؤں ۔ (2) ''دل آزار خوشی ''سے مراد وہ خوشی ہے جو کسی دوسرے کی مصیبت پر کی جائے جیسا کہ دشمنوں کا دستور ہے ۔مقصود یہ ہے مولا!مجھے ایسے مصائب سے محفوظ رکھنا جس سے دشمن خوش ہوں ۔یہاں ان کی ذاتی خوشی مراد نہیں۔