فهرس الكتاب

الصفحة 3512 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3512 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''بچہ فراش کے مالک کا ہوگا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔''

(۱) شادی شدہ عورت سے جو بچہ پیدا ہو' وہ خاوند ہی سے مقصود ہوگا۔ اسی طرح لونڈی سے ج وبچہ پیوا ہو' وہ اس کے مالک ہی کا مقصور ہوگا جب تک خاوند یا مالک نفی نہ کرے' خواہ اس بچے کے ناجائز ہون کا کوئی امکانی ثبوت بھی ہو کیونکہ بچے کے جائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ مخفی ہوتا ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنا مشکل امر ہے۔ (۲) ''پتھر'' یعنی زانی کو حد لگے گی۔ جس کی ایک صورت پتھر ہیں۔ یہ محاورہ بھی ہوسکتا ہے' یعنی زانی کے لیے ناکامی ہے۔ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ نسب تو پاکیزہ چیز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت