فهرس الكتاب

الصفحة 1942 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1942 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص جنازے کے ساتھ جائے حتی کہ اس کا جنازہ پڑھا جائے تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے حتی کہ اسے دفن کیا جائے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا، اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔''

یہاں قیراط کی تخصیص کی ضرورت، اس لیے پڑی کہ مشہور وزن ''قیراط'' تو انتہائی معمولی ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت