فهرس الكتاب

الصفحة 1138 من 5761

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان

1138 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ سُمَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بندہ اپنے رب عزوجل کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا سجدے میں خوب دعا کیا کرو۔''

(۱) نماز کا اصل مقصد سجدہ ہے، باقی تمہید اور خاتمہ ہے، لہٰذا سجدے میں مکمل سکون و اطمینان ہونا چاہیے۔ (۲) بعض حضرات دعا کے لیے نماز سے الگ صرف سجدے کو بھی مناسب خیال کرتے ہیں لیکن اس کا سنت سے ثبوت نہیں ملتا۔ ہاں سجدۂ شکر مسنون ہے۔ (۳) یہاں قرب سے جسمانی یا مکانی قرب مراد نہیں بلکہ رتبے اور عزت و شرف والا قرب مراد ہے کیونکہ شیطان سجدے سے انکار کرکے ذلیل و رسوا ہوا اور انسان شیطان کی مخالفت، یعنی سجدہ کرکے عزت و رتبہ حاصل کرسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت