فهرس الكتاب

الصفحة 420 من 5761

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل

420 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اغْتَسَلَ ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو ہاتھ دھوتے، پھر نماز والا وضو فرماتے، پھر غسل شروع فرماتے، پھر اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو تر کرکے اپنے سر کےبالوں میں ہاتھ پھیرتے حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہوجاتا کہ آپ نے سر کا چمڑا تر کرلیا ہے تو تین دفعہ پانی بہاتے، اس کے بعد باقی جسم دھوتے۔

(۱) غسل جنابت کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ پہلے وضو کیا جائے کیونکہ وضو غسل میں داخل ہے، البتہ اگر صرف کلی اور استنشاق کے ساتھ ساتھ سارے جسم پر پانی بہالیا جائے تو جمہور اہل علم کے نزدیک غسل پھر بھی معتبر ہوگا، گویا غسل میں ترتیب شرط نہیں۔ اسی طرح سر کے بالوں کا خلال بھی مسنون ہی ہے خصوصًا جب بال زیادہ لمبے ہوں۔ اگر سر کا چمڑا اور بال خلال کے بغیر بھی تر ہوجائیں تو غسل معتبر ہوگا۔ اسی طرح آخر میں پاؤں دھونا بھی مسنون ہے۔ (۲) اس روایت میں بھی وضو سے پہلے استنجا کرنے کا ذکر نہیں ہے، تاہم اس کی وضاحت دوسری روایات سے ہوجاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت