فهرس الكتاب

الصفحة 2055 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

2055 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ؟ قَالَ: «كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَةً»

حضرت راشد بن سعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اہل ایمان کا ان کی قبروں میں امتحان لیا جاتا ہے مگر شہید کا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ''اس کے سر پر چمکتی تلواریں اس کے لیے امتحان سے کافی ہوگئیں۔''

(۱) گویا جہاد اور شہادت کا ثواب اس قدر زیادہ ہے کہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ جب گناہ ہی نہ رہے تو امتحان کا ہے کا؟ شہید کا تلواروں کے نیچے قائم رہنا بلکہ بے جگری سے لڑنا، جنگ سے نہ بھاگنا، جان کی پروا تک نہ کرنا حتی کہ جان قربان کر دینا اس کے ایمان کی واضح دلیل ہے۔ اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی؟ لہٰذا سوال و جواب کی ضرورت نہ رہی۔ (۲) مذکورہ حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ صدیقین سے بھی سوال و جواب نہیں ہوگا کیونکہ ان کا مرتبہ شہداء سے بلند ہے۔ انبیاء علیہم السلام تو ذاتی طور پر اس سے مستثنیٰ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت