کتاب: مواقیت کا بیان
3082 أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عبَّاسٍ قَالَ قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَلَمَّا رَمَى قَطَعَ التَّلْبِيَةَ
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں آپ کو مسلسل لبیک پکارتے سنتا رہا حتی کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو رمی شروع کی۔ جب رمی شروع کی تو لبیک کہنا بند کر دیا۔
رمی آخری فعل ہے جو محرم حج کے دوران میں کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کا احرام ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا لبیک کا وقت بھی رمی تک ہی ہے۔ صحیح صریح حدیث کی روشنی میں راجح یہی ہے کہ رمی کی آخری کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ موقوف کر دیا جائے۔ یہ امام احمد اور بعض اصحاب شافعی کا موقف ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے:ح 3058