فهرس الكتاب

الصفحة 1626 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

1626 أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس دعا سے اپنی نماز (تہجد) شروع فرماتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: آپ جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: (اللھم رب جبریل۔۔۔ الی صراط مستقیم) ''اے اللہ! جبرائیل،میکائیل اور اسرافیل ے رب! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! ہر غیب و حاضر کو جاننے والے! تو اپنے بندوں میں ان چیزوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ اے اللہ! مجھے اس حق کی طرف راہنمائی فرما جس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ یقینًا تو جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلا دیتا ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت