فهرس الكتاب

الصفحة 2222 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

2222 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مُرْنِي بِأَمْرٍ آخُذُهُ عَنْكَ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے ایسی چیز کا حکم دیجئے جو میں آپ سے خصوصی طور پر حاصل کروں (اس پر عمل کروں) ۔ آپ نے فرمایا: ''روزہ رکھا کرو کیونکہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔''

''اس جیسی کوئی چیز نہیں۔'' ثواب واجر کے لحاظ سے یا گناہ سے بچنے کے لیے؟ بعض نے اس روایت میں صوم سے مراد ہی تقویٰ لیا ہے کیونکہ صوم کے معنی ہیں، رک جانا، اور تقویٰ کے معنی بھی تقریبًا یہی ہیں لیکن پہلے معنی ہی صحیح ہیں جو کہ مشہور ہیں لیکن یاد رہے کہ روزوں کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت