1791 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص رات کو اپنی مقرر شدہ مکمل یا کچھ نماز سے یوا رہا (نہ پڑھ سکا) پھر وہ اسے فجر کی نماز (طلوع شمس) ہے نماز ظہر تک پڑھ لے تو اس کا ثواب یوں لکھا جائے گا گویا اس نے رات کو پڑھی۔''
البتہ دو چیزیں ملحوظ رکھے۔ وقت نفل نماز کے لیے مکروہ نہ ہو اور طاق کی بجائے ایک رکعت زائد کر کے جفت پڑھے۔ یہ تب ہے جب رات کے نوافل کی ادائیگی کرنی ہو، لیکن اگر صرف وتر کی ادائیگی ہی مقصود ہے تو طاق وتر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ أعلم۔