فهرس الكتاب

الصفحة 4156 من 5761

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل

4156 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ»

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اﷲﷺ کی بیعت کی کہ ہم ہر تنگی و آسانی اور ہر پسند و ناپسند میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔اور ہم حاکم سے اس کی حکومت کے بارے میں جھگڑا نہیں کریں۔اور ہم جہاں بھی ہوں'حق پر قائم ودائم رہیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

حاکم'امیر یا امام کی کسی غلطی کی بنا پر اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جاسکتی کیو نکہ غلطی سے پاک تو کوئی بھی نہیں۔کیا اس شخص کے بعد پھر کسی فرشتے کو حاکم یا امام بنائیں گے؟نیا حاکم بھی انسان ہی ہوگا'نیز بغاوت کرنے والے کیاخود غلطی سے پاک اور معصوم ہیں؟ البتہ اگر حاکم یا امام سے صریح کفرصادر ہوجائے تو اس کو بزور بر طرف کر دیا جائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت