فهرس الكتاب

الصفحة 1064 من 5761

کتاب: رکوع کے دوران میں تطبیق کا بیان

1064 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ''جب امام [سمع اللہ لمن حمدہ] کہے تو تم [ربنا ولک الحمد] کہو کیونکہ جس آدمی کا یہ قول فرشتوں کے قول کے ساتھ مل گیا، اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔''

معلوم ہوتا ہے کہ انسان پر مقرر فرشتے بھی نماز میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں، خصوصًا امام کو جواب دیتے ہیں، مثلًا: امام کی فاتحہ پر آمین کہنا اور [سمع اللہ لمن حمدہ] کے جواب میں [ربنا ولک الحمد] کہنا وغیرہ، لہٰذا مقتدی بھی امام کو جواب دے اور فورًا دے (جیسا کہ جواب کا دستور ہے) ۔ اس طرح وہ فرشتوں کی موافقت کی فضیلت حاصل کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی معیت کوئی معمولی بات نہیں اور پھر معصوم فرشتوں کی معیت۔ اللہ! اللہ!

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت