فهرس الكتاب

الصفحة 704 من 5761

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

704 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ وَيُونُسَ قَالَا قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ وَابْنَ عَبَّاسٍ قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ قَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ اپنی چادر کبھی چہرۂ انور پر ڈال لیتے، پھر جب گھبراہٹ ہوتی تو اسے چہرے سے ہٹا لیتے۔ اسی حالت میں آپ نے فرمایا: ''اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔''

(۱) جب انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجدیں) بنانا قابل لعنت فعل ہے تو دیگر لوگوں کی قبروں کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا کب جائز ہوگا؟ اگلی روایت میں نیک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنانے کا ذکر ہے۔ گویا یہود و نصاریٰ نے انبیاء کی قبروں کو بھی اور صالحین کی قبروں کو بھی مسجدیں (عبادت گاہیں) بنا لیا تھا اور یوں وہ غیراللہ کی پوجا کرتے تھے، جیسے آج مسلمان کہلانے والا ایک فرقہ بھی اسی طریقے پر گامزن ہے۔ ھداھم اللہ تعالیٰ۔ (۲) کسی معین فرد پر لعنت بھیجنا منع ہے مگر کسی وصف پر جائز ہے، مثلًا: اللہ چور پر لعنت کرے۔ قبروں کو مسجدیں بنانے والوں پر اللہ کی لعنت ہو، اسی طرح جس شخص کا کفر پر مرنا قطعی ہو، اس پر لعنت کرنا بھی جائز ہے، مثلًا: فرعون، ابوجہل لعنھم اللہ۔ (۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تپ محرقہ کی تیزی تھی، اس لیے گھبراہٹ محسوس ہوتی تھی مگر اس وقت بھی تبلیغ سے غافل نہ ہوئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت