705 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا تِيكِ الصُّوَرَ أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انھوں نے حبشہ میں (ہجرت حبشہ کے دور میں) دیکھا تھا۔ اس میں تصویریں تھیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ان (عیسائیوں) کی یہ عادت تھی کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ تمام مخلوق میں سے بدترین ہوں گے۔''
(۱) حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے اپنے خاوندوں کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں شامل تھیں۔ وہ عیسائیوں کا ملک تھا۔ (۲) نیک آدمی کی قبر پر مسجد بنا کر اس میں اس نیک آدمی اور دوسرے صالحین کی تصویریں بناتے تھے۔ مقصد تو تعظیم اور ان کی یاد ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ ان تصویروں کی پوجا شروع ہو جاتی تھی، اس لیے شریعت نے قبروں پر مسجدوں سے مطلقًا منع کر دیا کہ یہ شرک کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اور واقعتًا جن قبروں پر یا ان کے قریب مساجد بنی ہوئی ہیں، ان قبروں کی پوجا ہوتی ہے، اسی لیے انھیں بدترین مخلوق کہا گیا۔ (۳) صالحین سےمراد انبیاء کے حواری (اولین پیروکار) یا علماء و رہبان ہیں کیونکہ عیسائی انھیں نبیوں کی طرح سمجھتے اور ان کی غیر مشروط اطاعت کرتے تھے۔