فهرس الكتاب

الصفحة 730 من 5761

کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل

730 أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ بَصْرِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ وَأَبَا أُسَيْدٍ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

حضرت ابوحمید اور حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہوو تو کہے: [اللھم! افتح لی أبواب رحمتک] ''اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔'' اور جب مسجد سے باہر نکلے تو کہے: [اللھم! إنی اسالک من فضلک] ''اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔''

داخل ہوتے وقت رحمت الٰہی کا حول مقصود ہوتا ہے اور باہر آکر طلب رزق کا کام ہوتا ہے، اس لیے دونوں دعائیں موقع محل کے مطابق ہیں۔ رحمت سے اخروی نعمتیں اور مغفرت مراد ہے۔ فضل، دنیوی نعمت اور رزق دونوں پر بولا جاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت