فهرس الكتاب

الصفحة 1566 من 5761

کتاب: نماز عیدین کے متعلق احکام و مسائل

1566 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الْعَنَزَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى يُرْكِزُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن چھوٹا نیزہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر اسے گاڑ لیتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔

(۱) باب کا مفہوم یہ ہے کہ کھلی جگہ میں امام کے آگے سترہ ہونا چاہیے تاکہ کسی کے گزرنے سے نماز نہ ٹوٹ جائے۔ (۲) سترے کی غرض سے نیزہ وغیرہ لے جایا جاسکتا ہے اگرچہ آپ نے بھیڑ کے موقع پر اسلحہ لے جانے سے روکا ہے کیونکہ کسی کو اتفاقًا زخم بھی لگ سکتا ہے، البتہ صرف امام کے ساتھ نیزہ ہو تو ایسا کوئی خطرہ نہیں، لہٰذا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت