1599 أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنے گھروں میں نماز (نفل) پڑھا کرو۔ انھیں قبرستان نہ بنالو۔''
(۱) عذر کے سوا فرض نماز مسجد میں باجماعت پڑھنی چاہیے، البتہ نفل نماز گھر اور مسجد دونوں میں پڑھی جاسکتی ہے۔ مسجد فرض نمازوں سے آباد ہوجائے گی۔ گھروں کو نفل نماز ہی سے آباد کیا جاسکتا ہے، لہٰذا نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر اور افضل ہے۔ عورتوں کے لیے فرض نماز بھی گھر ہی میں پڑھنا افضل ہے اگرچہ مسجد میں بھی وہ فرض نماز پڑھ سکتی ہیں۔ اس طرح گھروں کو اللہ کے ذکر سے آباد کیا جاسکتا ہے۔ گھر اور دل وہی آباد اور زندہ ہیں جن میں اللہ کا ذکر ہو ورنہ ویران اورمردہ ہیں۔ اس لحاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھروں کو قبرستان سے تشبیہ دی ہے جہاں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا اور جہاں نماز پڑھنی قطعًا منع ہے۔ اور اللہ کے ذکر کی اصل اور اعلیٰ صورت نماز ہی ہے۔ (۲) اس روایت سے ضمنًا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی سوائے نماز جنازہ کے کہ اس میں رکوع اور سجدہ نہیں ہے۔ بعض شارعین نے اس روایت کے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ گھروں میں قبریں نہ بناؤ ورنہ قبروں کی وجہ سے گھروں میں نماز نہ پڑھ سکو گے۔ یہ مسئلہ تو صحیح ہے مگر اس معنی میں ذرا تکلف ہے۔ (۳) اس روایت کا یہ مطلب نہیں کہ مسجد میں نفل اور سنت پڑھے نہیں جاسکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ گھروں میں بھی نوافل پڑھا کرو۔