فهرس الكتاب

الصفحة 1948 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1948 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (جب نجاشی رحمہ اللہ فوت ہوئے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تمھارا (اسلامی) بھائی (حبشہ میں) فوت ہوگیا ہے، لہٰذا اٹھو اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔''

امام صاحب کا مقصد یہ ہے کہ جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے، یعنی ہر (مسلم) میت کا جنازہ ضرور ہونا چاہیے، تھوڑے لوگ پڑھیں یا زیادہ، ورنہ سب گناہ گار ہوں گے۔ اس حدیث سے بالتبع جنازۂ غائبانہ بھی ثابت ہوتا ہے، امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں جبکہ حنفی اور مالکی اس کے قائل نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے اور مذکوورہ حدیث اس کی دلیل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت