فهرس الكتاب

الصفحة 2023 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

2023 أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَلَمْ يَطِبْ قَلْبِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ وَدَفَنْتُهُ عَلَى حِدَةٍ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (شہید احد) کے ساتھ قبر میں ایک اور شہید بھی دفنائے گئے تھے مگر میرے دل کو یہ اچھا نہ لگا حتی کہ میں نے ان کو نکال کر علیحدہ دفن کیا۔

یہ دفنانے سے چھ ماہ بعد کی بات ہے، اور ان کی میت بالکل اسی طح تھی جس طرح رکھی گئی تھی۔ رضی اللہ عنہ و أرضاہ۔ ثابت ہوا کہ اشد ضرورت ہو تو قبر کشائی کی جا سکتی ہے ورنہ اس سے بچنا بہتر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت