فهرس الكتاب

الصفحة 2022 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

میت کو لحد میں رکھنے (کےبعد ( کسی وجہ سے نکالنا

2022 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ» ، قَالَ جَابِرٌ: وَصَلَّى عَلَيْهِ «وَاللَّهُ أَعْلَمُ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکالا گیا، پھر آپ نے اس کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھا۔ اور اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن تھوکا۔ اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کا جنازہ پڑھا۔ (ان کاموں کی مصلحت) اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث: ۱۹۰۱، ۱۹۰۲ - ۱۹۶۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت