فهرس الكتاب

الصفحة 2516 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2516 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَمْ نُخْرِجْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ ثُمَّ شَكَّ سُفْيَانُ فَقَالَ دَقِيقٍ أَوْ سُلْتٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ہم کھجور، جَو، کشمش، آٹا، پنیر یا سلت وغیرہ سے ایک صاع ہی (صدقۃ الفطر) دیتے تھے، پھر راوی سفیان کو شک ہوا اور انھوں نے کہا: آٹا یا سلت۔

شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق حدیث میں ''دقیق'' ''آٹے'' کا ذکر درست نہیں۔ متقدمین اکثر محدثین نے بھی اسے غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ دیکھیے (ذخیرۃ العقبی، شرح سنن النسائی: ۲۲/ ۳۰۲۔۳۰۳( باقی ساری حدیث حسن صحیح ہے۔ مزید دیکھیے:(ارواہ الغلیل: ۳/ ۳۳۸) لیکن چونکہ یہ ہماری عام خوراک ہے، نیز حدیث میں گندم کا صریح ذکر بھی آیا ہے، اس لیے اس کا صدقہ فطر میں دینا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت