فهرس الكتاب

الصفحة 482 من 5761

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل

482 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى يَعْنِي الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ

سلمہ بن کہیل سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے حضرت سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انھوں نے اقامت کہی اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز دورکعت پڑھی، پھر انھوں نے ذکر کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس جگہ ان کو ایسے ہی نمازیں پڑھائیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔

مغرب کی نماز سفروحضر میں تین رکعت ہی رہتی ہے کیونکہ یہ دن کے وتر ہیں، نصف کرنا ممکن نہیں ہے۔ دورکعا ت پڑھی جائیں تو وترنہیں رہے گی جب کہ عشاء کی نماز سفر میں دورکعت ہوجاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت