فهرس الكتاب

الصفحة 4885 من 5761

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

4885 أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ هُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى ثُمَّ لَفَّ رِدَاءً لَهُ مِنْ بُرْدٍ فَوَضَعَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَنَامَ فَأَتَاهُ لِصٌّ فَاسْتَلَّهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ فَأَخَذَهُ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا سَرَقَ رِدَائِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَقْتَ رِدَاءَ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبَا بِهِ فَاقْطَعَا يَدَهُ قَالَ صَفْوَانُ مَا كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فِي رِدَائِي فَقَالَ لَهُ فَلَوْ مَا قَبْلَ هَذَا خَالَفَهُ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ

حضرت صفوا ن بن امیہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز پڑھی پھر اپنی چادر تہہ کر کے اپنے سر کے نیچے رکھ لی اور سو گئے ۔ ایک چور آیا اور اس نے وہ چادر ان کے سر کے نیچے سے کھسکا لی ۔ انہوں نے اسے پکڑ لیا اور نبی اکرمﷺ کے پاس لے آئے اور کہا: اس نے میری چادر چرائی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے پوچھا: '' تو نے اس کی چادر چرائی ہے ؟'' اس نے کہا: جی ہاں ۔ آپ نے ( دو آدمیوں کو ) حکم دیا: '' اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔'' صفوان نے کہا: میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ آپ میری چادر کی بنا پر اس کا ہاتھ کاٹ دیں ۔ آپ نے فرمایا: '' اس سے پہلے کیوں ( معاف ) نہ کیا۔''

اشعث بن سوار نے اس کی مخالفت کی ہے۔

1۔عکرمہ سے یہ روایت بیان کرنے والے دو راوی ہیں: ایک عبدالملک بن ابو بشیر اور دوسرے اشعث بن سوار ۔ عبدالملک نے جب یہ روایت بیان کی تو کہا: حدثنی عکرمۃ عن صفوان ابن امیۃ . جب یہی روایت اشعث نے بیان کی تو کہا: عن عکرمۃ عن ابن عباس ، یعنی اشعث نے اسے صفوان بن امیہ کے بجائے ابن عباس کی مسند بنایا ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اشعث کی مخالفت ، عبدالملک کی روایت کے لیے مضر نہیں کیونکہ وہ ثقہ راوی ہے جبکہ اشعث ضعیف ہے جیسا کہ امام نسائی  نے بذات خود اس کی صراحت اگلی یعنی اشعث کی بیان کردہ روایت میں کردی ہے ۔ واللہ اعلم

2۔ باب کا مقصد یہ ہے کہ چور محفوظ چیز اٹھائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا غیر محفوظ چیز اٹھانے سے وہ چور تو بنے گا لیکن اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ بطور تعزیر کوئی اور سزا دی جاسکتی ہے ۔ محفوظ سے مراد مثلا: یا تو مالک کے پاس ہو اور اس نے وہ چیز اپنے پاس سنبھال کر رکھی ہو خواہ وہ سویا ہو یا جاگتا ہو یا وہ چیز بند جگہ میں ہو ، مثلا: کمرے کا دروازہ بند ہو ۔ لیکن اگر کوئی چیز گھر سے باہر پڑی ہو اور مالک بھی پاس نہ ہو تو اسے غیر محفوظ تصور کیا جا ئے گا ۔ یا ایسے مقام پر ہو جو سب کے لیے کھلا ہے مثلا: مسجد ، دفتر ، سکون وغیرہ اور دروازہ بھی کھلا ہو ، مالک بھی پاس نہ ہو تو اسے بھی غیر محفوظ تصور کیا جا ئے گا ۔ مذکورہ واقعے میں حضرت صفوان نے چادر تہہ کرکے سر کے نیچے رکھی ہوئی تھی ۔ ظاہر ہے یہ محفوظ تھی ۔ اس نے چرا کر اپنے آپ کو ہاتھ کاٹنے کا سزاوار قرار دے لیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت