فهرس الكتاب

الصفحة 3447 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3447 أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَمْ طَلَّقَكِ فَقُلْتُ ثَلَاثًا قَالَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي مُخْتَصَرٌ

حضرت فاطمہ بنت قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے طلاق لکھ بھیجی تو میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئی۔ آپ نے پوچھا: ''وہ تجھے کتنی طلاقیں دے چکا ہے؟'' میں نے کہا: تین۔ فرمایا: ''پھر تجھے خرچ وغیرہ نہیں ملے گا۔ تو اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار۔ وہ نابینا شخص ہے۔ تو اس کے ہاں کپڑے بھی اتار سکتی ہے۔ جب تیری عدت پوری ہوجائے تو مجھے اطلاع کرنا۔'' یہ روایت مختصر ہے۔

کپڑے اتار سکتی ہے'' یعنی فالتو کپڑے نہ کہ سب کپڑے۔ (تفصیل کے لیے دیکھے' حدیث:۳۴۲۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت