فهرس الكتاب

الصفحة 3329 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3329 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ وَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَا ذَاكُمْ قُلْنَا الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُصِيبُهَا وَيَكْرَهُ الْحَمْلَ وَتَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس عزل کاذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ''وہ کیا ہوتا ہے؟'' ہم نے کہا: کسی آدمی کے نکاح میں کوئی عورت ہو' وہ اس سے جماع کرتا ہو لیکن حمل کو ناپسند کرتا ہو یا اس کی لونڈی ہو' وہ اس سے جماع کرتا ہو لیکن اس کے حاملہ ہونے کو ناپسند کرتا ہو۔ آپ نے فرمایا: ''ایسے نہ کرو تو بھی کچھ نہ ہوگا۔ اصل بات کی تقدیر کی ہے۔''

(۱) عزل سے مرادیہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی (یا لونڈی) سے جماع کرے مگر انزال باہر کرے۔ مقصد یہ ہے کہ حمل نہ ٹھہرے۔ (۲) عزل کا جائز ہونا یا ناجائز ہونا نیت پر موقوف ہے۔ اگر نیت نیک ہو' مثلًا بچے (دودھ پینے والے) کی صحت متاثر ہو تو یا عورت کی صحت حمل کی اجازت نہ دیتی ہو تو عزل جائز ہے اور اگر نیت خراب ہو' مثلًا: میں غریب ہوں' بچوں کے اخراجات کہاں سے دوں گا؟ وغیرہ تو عزل ناجائز ہے۔ رسول اللہﷺ نے بھی سختی سے نہیں روکا' اچھا بھی نہیں سمجھا بلکہ معاملہ بین بین رکھا ہے۔ ممکن ہے وہ عزل کرہی نہ سکے۔ بے قابو ہوجائے یا قلیل انزال معلوم ہی نہ ہو۔ گویا اصل فیصلہ تو تقدیر (یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے) کا ہے۔ ہاں' جائز مقام پر نیک نیتی کے ساتھ عزل کو بطور سبب اختیار کیا جاسکتا ہے۔ احادیث میں تطبیق بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت