3558 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ عَنْ الْفَارِعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ فَقَتَلُوهُ قَالَ شُعْبَةُ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَكَانَتْ فِي دَارٍ قَاصِيَةٍ فَجَاءَتْ وَمَعَهَا أَخُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ فَرَخَّصَ لَهَا حَتَّى إِذَا رَجَعَتْ دَعَاهَا فَقَالَ اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ
حضرت فارعہ بنت مالکؓ سے روایت ہیکہ میرا خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلا۔ انہوں نے اسے پکڑ کر قتل کردیا۔ اس وقت میری رہاپش ایک دور دراز گھر میں تھی۔ میں اور میرے دوبھائی رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے صورت حال ذکر کی۔ آپ نے مجھے اس گھر سے منتقل ہونے کی اجازت دے دی لیکن جب میں واپس جانے کومڑی تو آپ نے بلا کر فرمایا: ''اپنے گھر ہی میں رہو حتیٰ کہ عدت پوری ہوجائے۔''
(۱) معلوم ہوا کہ عدت وفات میں عورت کے لیے خاوند کے گھر ٹھہرنا ضروری ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے مگر حضرت علی' ابن عباس' عائشہ اور جابرf سے منقول ہے کہ وہ جہاں سے چاہے عدت گزارسکتی ہے مگر یہ صحیح حدیث صرحتًا وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ شدید ضرورت کے تحت گھر سے نکل سکتی ہے' لیکن کام سے فارغ ہو کر فورًا گھر لوٹے۔ رات باہر مت گزارے۔ واللہ اعلم۔ (۲) ''دودراز گھر'' آبادی سے یا عورت کے رشتہ داروں سے۔