فهرس الكتاب

الصفحة 3559 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ عدت گزارنے تک گھر ہی میں رہے گی

3559 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ فَقَتَلُوهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَتْ إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي وَيَتَامَايَ وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ قَالَ افْعَلِي ثُمَّ قَالَ كَيْفَ قُلْتِ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا قَالَ اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ

حضرت فریعہ بنت مالکؓ سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے کچھ عجمی غلام کسی کام کے لیے کرائے پر لیے۔ انہوں نے اسے قتل کردیا۔ میں نے یہ بات رسول اللہﷺ سے ذکر کی اور عرض کیا کہ میں اپنے خاوند کے ذِاتی گھر میں نہیں رہ رہی۔ اور مجھے اس کی طرف سے کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ملتا تو کیا میں اور میرے یتیم بچے میرے میکے میں منتقل ہوجائیں؟ میں وہاں ان بچوں کی دیکھ بھال بھی کروں گی۔ آپ نے فرمایا: ''ایسے کرلو۔'' پھر آپ نے فرمایا: ''تو نے کیسے کہا تھا؟'' میں نے دوبارہ پوری بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ''جہاں تجھے وفات کی خبر پہنچی ہے' وہیں عدت پوری کر۔''

''فریعہ'' سابقہ روایت میں ان کا نام ''فارعہ'' بیان کیا گیا ہے۔ کوئی اختلاف نہیں ''فریعہ'' ''فارعہ'' کی تصغیر ہے۔ انہیں دونوں طرح پکارا جاتا تھا۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت