فهرس الكتاب

الصفحة 2540 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2540 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَصَدَّقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا كَانَ لَهَا أَجْرٌ وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا لِلزَّوْجِ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کرتی ہے تو اسے بھی ثواب ملتا ہے، خاوند کو بھی اور خزانچی کو بھی۔ لیکن ان میں سے کوئی کسی کے ثواب سے کمی نہیں کرتا۔ خاوند کو اس لیے کہ اس نے یہ مال کمایا تھا اور عورت کو اس لیے کہ اس نے خرچ کیا۔''

(۱) ''کمی نہیں کرتا۔'' کیونکہ ہر کسی کو اپنے حصے کا ثواب ملتا ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ سب کا ثواب برابر ہو۔ ثواب تو خلوص، محنت ومشقت اور حسن نیت کی بنیاد پر ملتا ہے اور اس میں لوگ مختلف ہوتے ہیں۔ (۲) عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کر سکتی ہے بشرطیکہ خاوند کی طرف سے صراحتًا یا عرفًا اجازت ہو۔ عرفًا اجازت سے مراد رضا مندی ہے۔ اس کے لیے علم ہونا کوئی ضروری نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت