فهرس الكتاب

الصفحة 2541 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

عورت کا اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کرنا؟

2541 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا مُخْتَصَرٌ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ''کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی تحفہ یا عطیہ دے۔'' یہ روایت مختصر ہے۔

اس سے مراد خاوند کے گھر سے عطیہ ہے ورنہ اگر عورت اپنے مال سے عطیہ دے تو خاوند کی اجازت ضروری نہیں۔ لیکن پھر بھی حسن معاشرت اور خاوند کو اعتماد میں لینے کے لیے اس سے صلاح مشورہ کرل ینا ہی بہتر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت