فهرس الكتاب

الصفحة 5041 من 5761

کتاب: ایمان اور اس کے فرائض واحکام کا بیان

5041 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا

حضرت ابو موسی ٰ اشعر ی ﷜ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے ،نارنگی کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ۔اور مومن قرآن نہیں پڑھتا،اس کی مثال کھجور جیسی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہے مگر اس میں ہوشبو نہیں ۔جومنافق قرآن پڑھتا ہے ،اس کی مثال نازبو کی طرح ہے جس کو خوشبو تو اچھی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہے ۔اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا ،اس کی مثال ایلوے کی طرح ہے۔اس کاذائقہ بھی کڑوا ہے ،خوشبو بھی نہیں ۔

ان مثالوں میں ایمان کو اچھے ذائقے سے تشبیہ دی گئی ہے جوایمان کی طرح نظر آنےوالی چیز نہیں اور قراءت قرآن ونماز کو خوشبو کے ساتھ کیو نکہ یہ دونوں ظاہر چیزں ہیں ۔ محسوس ہوسکتی ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے اس روایت کو ذکرکرنے سےمقصود ایمان کی کمی بیشی بیان کرنا ہے کیونکہ سب کھجور وں یا نازنگیوں کی مٹھاس ایک سی نہیں ہوتی بلکہ فرق ہوتاہے۔اسی طرح سب مومن ایمان میں برابر نہیں ہوتے ۔ان میں بھی فرق ہوتاہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت