فهرس الكتاب

الصفحة 1241 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

1241 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهَلٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ فَيُتِمَّهُ ثُمَّ يَعْنِي يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَلَمْ أَفْهَمْ بَعْضَ حُرُوفِهِ كَمَا أَرَدْتُ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو اسے صحیح صورت حال جاننے کی کوشش کرنی چاہیے، پھر وہ اپنی نماز مکمل کرے، پھر دو سجدے کرے۔''

(امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میں اس روایت کے بعض الفاظ (اپنے استاد گرامی سے) اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میری خواہش تھی

(۱) گویا بعض الفاظ صحیح طرح سمجھ میں نہیں آئے، اسی لیے امام صاحب نے حدیث: ۱۲۴۲ میں یہی روایت ایک اور استاد کے واسطے سے بیان کی تاکہ وہ شک دور ہو جائے اور روایت مستند بن جائے۔ (۲) پچھلی روایت میں مطلقًا ''اقل'' پر اعتماد کرنے کا حکم تھا مگر اس روایت میں مزید صراحت ہے کہ وہ سوچے کون سی بات صحیح ہے؟ اگر کسی ایک بات پر یقین ہو جائے تو درست ورنہ اقل (کم) پر اعتماد کیا جائے گا کیونکہ وہ قطعًا یقینی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت