فهرس الكتاب

الصفحة 3270 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3270 أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعِ ابْنَيْ يَزِيدَ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهُ

حضرت خنساء بہت خذامؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے اس کا نکاح کردیا جبکہ وہ بیوہ تھی۔ چنانچہ اس (خنسائ) نے اس (نکاح) کو ناپسند کیا' بالآخر وہ رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوئی (اور آپ سے پوری بات گزارش کی) تو آپ نے اس (کے والد) کا کیا ہوا نکاح ختم کردیا۔

اس دور میں یقینا یہ بات حیرت انگیز تھی کہ باپ کی کیا ہوا نکاح بیٹی کو پسند نہ ہونے کی وجہ سے ردکردیا گیا۔ یہ اسلام کا عظیم کارنامہ تھا' نیز شریعت اسلامیہ میں یہ مسئلہ متفق علیہ ہے' بشرطیکہ وہ بالغہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت