فهرس الكتاب

الصفحة 950 من 5761

کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل

باب: صبح کی نماز میں سورئہ قٓ پڑھنا

950 أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ

حضرت ام ہشام رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سورۂ (ق والقرآن المجید) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) سیکھی کیونکہ آپ اسے (اکثر) صبح کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔

(۱) یہ حدیث، خواتین کے مسجد میں حاضر ہو کر باجماعت نماز ادا کرنے پر صریح اور واضح دلالت کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری صحابیات رضی اللہ عنھن کا یہ معمول تھا۔ (۲) اس سورت کی آیات چھوٹی چھوٹی اور مضمون بہت مؤثر ہے۔ الفاظ کے ترنم سے معانی کی اثر انگیزی مزید بڑھ جاتی ہے۔ قیامت وغیرہ کا ذکر سوز میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ سورت تلاوت فرماتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت