فهرس الكتاب

الصفحة 5116 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

5116 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَيِّنُ الْحَدِيثِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے بہترین سرمہ اثمد ہے۔ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال بڑھاتا ہے۔

ابوعبدالرحمنٰ ( امام نسائی﷫) نے فرمایا: عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہے۔ (مطلب یہ کہ اس کی حدیث ضعیف ہے۔)

1۔ اثمدسرمہ لگانا مستحب ہے۔ اور یہ استحباب مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے کیونکہ احادیث مبارکہ کے الفاظ عام ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا: (اکتحلوا بالاثمد...) 'تم اثمد سرمہ لگایا کرو۔ اس سے نظر روشن اور تیز ہوتی ہے اور (پلکوں کے) بال اگتے ہیں۔' 2۔ سرمہ جہاں نظرتیز کرنے کےلیے لگانا جائز ہے وہاں زینت کےلیے بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ عورتوں کےلیے تو کوئی اختلاف نہیں، البتہ مردوں کےلیے بعض فقہاء نے بطور زینت منع فرمایا ہے کیونکہ یہ رنگ والی زنگ زینت ہے اور رنگ والی زینت مردوں کے لیے قطعًا منع ہے ۔ لیکن یہ صریح نص کےمقابلے میں رائے ہے، اس لیے قبول نہیں، پھر رسول اللہﷺ نے تو خود مردوں کو سرمہ لگانے کی ترغیب بھی دی ہے۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت