فهرس الكتاب

الصفحة 35 من 5761

کتاب: امور فطرت کا بیان

35 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، تو وہ نجاست بھی پانی کے ساتھ رکی رہے گی۔ اس سے تعفن اور بدبو پیدا ہوگی۔ زیادہ آدمیوں کے پیشاب کرنے سے پانی کا رنگ، بو اور ذائقہ بھی بدل سکتا ہے، جس سے پانی پلید ہو جائے گا اور قابل استعمال نہ رہے گا۔ جاری پانی میں یہ خدشات نہیں، لہٰذا انتہائی مجبوری کے وقت جاری پانی میں پیشاب کیا جا سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت