فهرس الكتاب

الصفحة 749 من 5761

کتاب: قبلے سے متعلق احکام و مسائل

749 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعَ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ

حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی طرف نماز پڑھے تو اس سے قریب کھڑا ہو (تاکہ) شیطان اس کی نماز کو قطع نہ کر دے۔''

(۱) پیچھے ذکر ہوچکا ہے کہ سترہ شیطان سے بھی حفاظت کرتا ہے کیونکہ شیطان جہاں نمازی کے خیالات منتشر ہے، وہاں نماز توڑنے کی بھی کوشش کرتا ہے جبکہ سترہ اس سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ (۲) سترہ سجدے کی جگہ کے قریب ہی ہونا چاہیے تاکہ نظر سجدے کی جگہ سے آگے تجاوز نہ کرے۔ اگر سترہ دور ہوگا تو نظر آگے جائے گی اور شیطانی وار سے بچاؤ بھی مشکل ہوگا جس سے اصل مقصد فوت ہو جائے گا، اس لیے نماز پڑھنے والے کو سترہ کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے تاکہ خود بھی معصیت کا شکار نہ ہو اور دوسرے کو بھی موقع نہ دے۔ (۳) آج کل اس سنت پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے اس کی اشاعت کی خوب ضرورت ہے۔ جس حدیث میں یہ آتا ہے کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، وہ سندًا ضعیف ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے: (ضعیف سنن أبي داود،(مفصل) للألباني: ۲۶۵/۹، حدیث: ۱۱۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت