فهرس الكتاب

الصفحة 2543 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2543 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ سے ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ''تو اس حال میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو اور مال کا خواہش مند ہو۔ زندگی کی امید رکھتا ہو اور فقر سے ڈرتا ہو۔''

جب انسان خود مال کی خواہش رکھتا ہو، ضرورت مند بھی ہو اور زندگی کی بھی امید ہو تو اس وقت صدقہ کرنا افضل ہے، لیکن جب مال زیادہ ہو یا زندگی کی امید نہ ہو، قریب الوفات ہو تو خرچ کرنے کی وہ فضیلت نہیں۔ گویا اللہ کے نزدیک گنتی کے بجائے وہ دلی حالت معتبر ہے جس کے ساتھ صدقہ کیا جاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت