فهرس الكتاب

الصفحة 3180 من 5761

کتاب: جہاد سے متعلق احکام و مسائل

3180 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ وَإِخْلَاصِهِمْ

حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد محترم (حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے سمجھا کہ شاید مجھے دوسرے صحابہ پر فضیلت حاصل ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کمزور لوگوں کی دعاؤں' نمازوں اور اخلاص کی وجہ سے اس امت کی مدد فرماتا ہے۔''

1)''فضیلت حاصل ہے'' کیونکہ وہ اولین مسلما نوں میں سے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ثُلُثُ الْأِسْلاَم (اسلام کا تیسرا حصہ) کہتے تھے' یعنی وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوئے۔ (2) اس حدیث میں ضعیف سے مراد وہ نیک بزرگ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتے' جسمانی طور پر معذور یا ضعیف ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی دعائیںمسلمانو ں کی فتح کا موجب بنتی ہیں' لہٰذا انہیں نکمے' بے کاریا حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت