2520 أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ لَا نُخْرِجُ غَيْرَهُ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (صدقۃ الفطر) کھجور یا جو یا پنیر سے ایک صاع ہی دیا کرتے تھے۔ ہم ان کے علاوہ اور کوئی چیز نہ دیا کرتے تھے۔
(۱) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ ہی کی دوسری روایت میں کشمش اور طعام کا بھی ذکر ہے، بلکہ سلت کا بھی ذکر ہے۔ گندم کا صراحتًا ذکر نہیں الا یہ کہ طعام سے گندم مراد لی جائے۔ (۲) پنیر دودھ کو گرم کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ جمہور اہل علم کے نزدیک پنیر بھی ایک صاع دیا جائے گا جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک قیمت کے لحاظ سے دیا جائے گا، مگر احادیث میں صراحتًا پنیر کے بھی صاع ہی کا ذکر ہے اور یہی صحیح ہے۔