فهرس الكتاب
5712 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ قَدِمَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنْ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جیشان سے آیا اور جیشان یمن میں ہے اور رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے لگا کہ ہمارے علاقے میں لوگ ایک مشروب پیتے ہیں جو وہ چینے سے تیار کرتے ہیں۔اسے مزر کہا جاتا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے اس نے کہا جی ہاں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔یقینًا اللہ تعالٰی نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا اللہ تعالی اسے طینۃ الخبال کیاچیز ہے آپ نے فرمایا جہنمیوں کا پسینہ یا فرمایا جہنمیوں کا پیپ (جو ان کے زخموں سے نکلے گا) ۔
نشہ آور مشروب پیے گا اس میں قلیل اور کثیر کا فرق نہیں کیا گیا بلکہ ہر نشہ آور مشروب پینے والے کو یہ وعید سنائی گئی ہے۔وہ حنفیوں کی خمر ہو یا کوئی اور نشہ آور مشروب۔قلیل ہو یا کثیر اعاذنا الله منه۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث 5673۔