فهرس الكتاب

الصفحة 1937 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

1937 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ فَقَالَ لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی فوت شدہ شخص کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا: ''اپنے فوت شدگان کا ذکر خیر ہی کیا کرو۔''

کسی غائب شخص کی برائی ذکر کرنا تو زندگی میں بھی غیبت بن جاتی ہے جو سخت منع ہے، حالانکہ اس کی طرف سے دفاع ممکن ہے، تو ایک میت جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتا اس کی برائی بیان کرنا کیونکر جائز ہوسکتا ہے، نیز گناہوں اور کوتاہیوں سے کون پاک ہے؟ لہٰذا فوت شدہ کی برائی بیان نہ کی جائے بلکہ درگزر کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے، البتہ امت مسلمہ کے مفاد کے لیے ضرورت کی حد تک کسی زندہ یا فوت شدہ کی برائی بیان ہوسکتی ہے، جیسے رجالِ حدیث کا فن۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت