فهرس الكتاب

الصفحة 2566 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

2566 أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَدِّتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ فِي حَدِيثِ هَارُونَ مُحْرَقٍ

حضرت ابن بجید انصاری کی دادی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''سوالی کو کچھ نہ کچھ دے کر واپس کرو، خواہ جلا ہوا کھر ہی ہو۔''

مقصد مبالغہ ہے، نیز یہ حکم تب ہے جب سائل حق دار ہو اور مسئول کے پاس گنجائش ہو، ورنہ پیشہ ور گداگروں کو (بشرطیکہ معلوم ہو) دینا تو گناہ ہی کے زمرے میں آسکتا ہے کیونکہ اس طرح گداگری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جبکہ اسلام نے اس کی سختی کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت