فهرس الكتاب

الصفحة 3479 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

3479 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ قَالَتْ فَأَعْتَقْتُهَا فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا قَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا أَقَمْتُ عِنْدَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ کو خریدا لیکن اس کے مالکوں نے ولا کی شرط لگالی۔ میں نے یہ بات نبیﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ''تو اسے آزاد کردے۔ ولا اسی شخص کے لیے ہے جو پیسے دے کر خریدتا ہے۔'' چنانچہ میں نے اسے آزاد کردیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے بلایا اور اسے اپنے خاوند (کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے) کی بابت اختیار دیا۔ وہ کہنے لگی: وہ مجھے بہت بڑی دولت دے تب بھی میںاس کے نکاح میں رہنے کے لیے تیار نہیں' چنانچہ اس نے اپنی علیحدگی کو پسند کرلیا اور اس کا خاوند آزاد تھا۔

(۱) ''جو خریدتا ہے'' یعنی خریدنے کے بعد اسے آزاد بھی کرتا ہے ورنہ صرف خریدنے سے حق ولا نہیں ملتا۔ (۲) ''اس کا خاوند آزاد تھا'' یہ حضرت عائشہؓکے الفاظ نہیں بلکہ حضرت اسود کے ہیں جو کہ تابعی ہیں اور وہ موقع پر موجود نہیں تھے جب کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے غلام ہونے کی صراحت آتی ہے۔ یہ دونوں موقع کے گواہ ہیں۔ ظارہ ہے ان کی گواہی معتبر ہے۔ حضرت اسود کو غلطی لگی ہے۔ احناف کہہ دیتے ہیں کہ پہلے وہ غلام تھا' پھر بریرہ کی آزادی سے پہلے وہ آزاد ہو گیا تھا لیکن یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ حضرت عائشہ وحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بریرہ اور اس کی آزادی کے وقت کی بات کررہے ہیں۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ بھی آزاد ہوگیا تھا۔ اس میںکوئی اشکال نہیں۔ واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت