فهرس الكتاب

الصفحة 3478 من 5761

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

لونڈی کو(آزادی کے بعد نکاح ختم کرنے)کا اختیار ہے

3478 أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأُعْتِقَتْ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كُلُوهُ فَإِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں تین اہم فیصلے ہوئے: اس کے مالکوں نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا لیکن ولا کی شرط لگائی۔ میںنے یہ بات رسول اللہﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ''اسے خرید لے اور آزاد کردے۔ ولا تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔'' وہ آزاد ہوئی تو رسول اللہﷺ نے اسے اختیار دیا۔ چنانچہ اس نے (خاوند کے بجائے) اپنے آپ کو پسند کیا۔ اس پر صدقہ کیا جاتا تھا تو وہ اس میں سے ہمیں تحفتًا بھیج دیتی تھی۔ میں نے یہ بات نبیﷺ سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا: ''کھاؤ یہ ا س کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے تحفہ۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت