5503 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ بِإِصْبَعِهِ وَمَدَّ شُعْبَةُ بِإِصْبَعِهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ جب سفر شروع کرتےاوراونٹ پرسوار ہتے تواپنی انگشت شہادت سے (آسمان کی طرف) اشارہ فرماتے (راوی حدیث ) شعبہ نے اپنی انگلی کولمبا کیا (اوراشارہ کرکےدکھایا ) اوریہ دعا پڑھتے:''اے اللہ ! توہی سفر میں اصلی ساتھی ہے ۔اوراہل ومال میں توہی نگران ہے۔ اے اللہ !میں سفر کے مصائب اورغمناک واپسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔'
''اصلی ساتھی''کیونکہ دوسرے ساتھی کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ سکتے ہیں ۔ خوشی سے ناخوشی سے۔ ''نگران ''عربی میں لفظ ''خلیفہ''استعمال ہوا ہے جس کے معنی نائب اورجانشین ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میری عدم موجودگی میں توہی میری جگہ کفایت فرمائے گا۔ اس مفہوم کونگران کےلفظ سےبیان کیاگیاہے ۔