فهرس الكتاب

الصفحة 3380 من 5761

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

3380 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتٍّ وَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَكُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا تو میں چھ سال کی تھی اور مجھے اپنے گھر آباد فرمایا تو میں نو سال کی تھی اور گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی۔

(۱) موسمی حالات اور اپنی جسمانی عمدگی کی بنا پر نو سال کی عمر میں بالغ ہوچکی تھیں' لہٰذا رخصتی میں کوئی اشکال نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھییے' احادیث: ۳۳۵۷ تا ۳۳۶۰) (۲) ]کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ [ بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ''میں لڑکیوں میں کھیلا کرتی تھی' جب کہ ان الفاظ کا راجح مفہوم وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے' یعنی گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میںاسی مفہوم کی تصریح موجود ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم' فضائل الصحابۃ' حدیث: ۲۴۴۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت