4286 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ويَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَليِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ»
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روادیت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:''فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی ہو۔''
بلا ضرورت جنبی رہنا بھی قبیح بات ہے۔ جب جنابت طاری ہو جائے تو فوراََ نہانا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ تاخیر ہو تو آئندہ فرض نماز تک لازمی نہا لینا چاہیے۔ اس سے زائد تا خیر کرنا گناہ کا موجب ہے۔ اصل یہی ہے کہ فوراََ نہائے شرعی اور طبی اعتبار سے یہی بہتر ہے۔